Subscribe Us

Breaking

Saturday, February 12, 2022

شکوہ،جواب شکوہ__ایک صدی کے تناظر میں


شکوہ،جواب شکوہ__ایک صدی کے تناظر میں

طنز، طعنہ،تشنیع،شکوہ،شکایت سب نسوانی خصوصیات ہیں اور کمزوری کی علامت ہیں۔یہ خصوصیات افراد اور قوموں میں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب وہ کمزور ہو جاتے ہیں ۔ برصغیر میں مسلمان ایک طاقتور اور جنگجو قوم کے طور پر داخل ہوئے لیکن اٹھارویں صدی تک آتے آتے ان کی شجاعت اور جوانمردی اقتدار کے نشے میں گم ہوگئی۔اگرچہ اورنگ زیب کی وفات کے بعد زوال کا عمل شروع ہو گیا لیکن لارڈلیک کے دلی میں ورود سے قبل بھرم کچھ نہ کچھ قائم رہا۔ چنا نچہ انیسویں صدی سے برصغیر میں مسلمانوں کی ایک دوسری زندگی آغاز ہوئی جو غلامی اور نام مردمی کی خصوصیات کی حامل ہے ۔اسی دور کی غزل میں شکوہ شکایت کی وہ روایت آغاز ہوئی جو بعد میں اقبال کی نظم "شکوہ "کی صورت میں ظاہر ہوئی . غزل میں شکوہ غزل کے مخصوص علامتی نظام میں ظاہر ہوا جس کی وجہ سے وہ نہ اتنا نمایاں ہوا اور نہ ہی اسے بےادبی شمار کیا گیا کیونکہ غزل کا مخاطب محبوب ہے اگرچہ محبوب کی ایک بلکہ بنیادی سطح محبوب حقیقی یعنی خدا کی ذات ہے لیکن علامتی بیانیہ ہونے کے سب ہمارے تیقنات کو براہ راست ہدف نہیں بناتا۔یوں تو انیسویں صدی کے تمام ہی شاعروں کے ہاں اس موضوع پر کچھ نہ کچھ اشعار مل جاتے ہیں لیکن اس صدی کے شاعرعظیم کی شاعری میں اس موضوع نے متنوع شکلوں میں اظہار کیا ہے۔یہاں اپنی بات کی دلیل کے طور پر میں غالب کے دو اشعار پیش کرتا ہوں پہلا شعر غزل کی تہذیب میں رچا بسا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہی بات اور وہی انداز آغاز ہونے کے باوجود کچھ اور کہتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ

اس قدر  دشمن  اربابِ  وفا  ہو  جانا

اس شعر کا مخاطب محبوب / محبوب حقیقی اور اقبال کی زبان میں خدا ہے۔ ارباب وفا عاشق یا اقبال کی نظم شکوہ کی زبان میں مسلمان ہے۔ پہلے محبوب جفا کرتا رہا اور اب بے تک تعلقی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اہل عشق کو جفا سے بھی محروم کر دیا ہے۔ موضوعاتی اعتبار سے یہ شعر شکوہ سے بھی ایک قدم آگے کا شکوہ ہے غالب کی شاعری میں ایک شعر براہ راست بھی ہے،اگرچہ اس شعر میں بھی مسلمانوں کی بجائے انسان/آدم کی بات کی گئی ہے لیکن شکوہ براہ راست خدا سے ہے:

ایسا نہیں ہے کہ اقبال نے یہ موضوع غالب سے لیا ہے بلکہ زوال نے مسلمان قوم میں شکوہ کا جو مزاج پیدا کیا فی الاصل یہ شعر اور اقبال کی نظم اس مزاج کی آئینہ دار ہے۔

انیسویں صدی میں جس صورت حالات کے آثار غالب اور ان کے ہم عصروں کی شاعری میں نظر آنے لگے تھے قومی شعور کے پس منظر میں تھے لیکن اقبال کی نظم شکوہ انہیں لاشعور سے شعور میں لے آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظم کواقبال نے انجمن کے جلسے میں پڑھا تو شدید ردعمل سامنے آیا یہ ردعمل بھی شعوری طور پر خدا سے مخاطتبت میں بے ادبی کو بنیاد بناکر پیش کیا گیا لیکن فی الاصل یہ ملی باطن میں پیدا ہونے والی کمزوری کو یوں طشت ازبام کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اقبال کی شاعری میں  1908ء کے بعد ایک موڑ آیا اور ان کی شاعری رومانیت سے آرزوئے حریت کی منزل میں داخل ہوئی۔ خود اقبال کی شاعری میں بھی شکوہ واحد نظم ہے جس میں عہد کے مجموعی انسانی مزاج کی عکاسی ہوئی ہے ۔ بعد کی شاعری میں عکاسی سے زیادہ مزاج سازی کا رویہ پیدا ہوا جسے اقبال نے موضوع ،لب و لہجے اور اسلوب ہر سطح پر کمزوری کے برعکس قوت ، جلال اور شکوہ سے پیش کیا جس کی وجہ سے ان کی شاعری اپنے قاری میں جذبہ اور تحریک پیدا کرتی ہے ۔

شکوہ میں اقبال کا اسلوب اپنے موضوع کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ جیسا کہ آغاز میں عرض کیا گیا ہے کہ شکوہ شکایت نسوانی مزاج کی عکاسی کرتا ہے اس لیے نظم کے بعض مصرے لب و لہجے میں اسی نسوانیت کے آئینہ دار ہیں ۔ یہ لب و لہجہ اقبال کے مجموعی شعری لحن سے بہت مختلف ہے ۔ اگرچہ مختلف مصرعوں میں اقبال کی اپنی آواز بھی جھلکیاں دکھاتی ہے لیکن مجموعی طور پر اس نظم کا لفظی اور صوتی آہنگ اپنے موضوع سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس نظم میں متعدد بند ایسے ہیں جن میں پہلے چار مصروں میں خدمات جتانے کا انداز ہے اور آخری دو مصروں میں شکوہ شکایت کا اسلوب ہے ۔ اس نظم کے اس طرح کے تمام مصرعوں کی زبان  اور لب و لہجے میں نسوانی لب و لہجہ کی جھلک نمایاں ہوگئی ہے۔ اس نظم میں اقبال نے موضوع کی نسوانیت کو پیش کرنے کے لئے اسلوب کی نسوانیت سے بھی بھرپور کام لیا ہے۔نظم کے بعض مصرعوں میں طعنہ و تشنیع کا اسلوب ہے، کہیں الزام دینے کا انداز ہے اور کہیں جتانے کا رنگ ہے یہ سارے ہی اسالیب نسوانیت سے مخصوص ہیں اور ہمیں ان سے اپنی روزمرہ ازدواجی زندگی میں مسلسل سابقہ پڑتا رہتا ہے، اس لیے انہیں پہچاننا قطعاً دشوار نہیں ہے۔ یہ ایک طرز گفتگو ہے جو ان مردوں میں بھی پایا جاتا ہے جن میں نسوانی مزاج غالب نظر آتا ہے جو بعض اوقات بظاہر بڑے تنومند نظر آتے ہیں لیکن رویوں کی نسوانیت سے اپنی شناخت کراتے ہیں۔

اس لب و لہجے کو محسوس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان مصروں کو اسی لہجے میں پڑھیں جس میں یہ لکھے گئے ہیں۔

انیسویں صدی میں زوال اور انحطاط کے جو مظاہر اپنی ابتدائی شکل میں تھے بیسویں صدی میں ارتقائی صورت میں نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں اپنی حالت سے عدم اطمینان نے وہ شکوہ پیدا کیا جو اقبال کی نظم میں ظاہر ہوا 1911ء سے آگے وقت جوں جوں گزرتا گیا حالات قوم کے لئے بد سے بد تر ہوتے چلے گئے اگرچہ اس زمانے میں مسلمانوں کے سیاسی شعور میں بہتری پیدا ہوئی جو قیام پاکستان کی صورت منتج ہوئی لیکن معاشرتی حالت میں خرابی بڑھتی رہی مسلمانوں کا انسانی تشخص قومی کردار میں ناتوانی کی وجہ سے مجروح ہوتا رہا جس کی وجہ سےقیام  پاکستان کے بعد بھی ملک پے در پے مارشل لا کی زد میں رہا پہلے مارشل لا میں پاکستان اپنے دریاؤں سے محروم ہوا ایک مارشل میں کلاشنکوف اور ہیروئن کے تحائف ملے تو دوسرے مارشل لاء کا ثمر  دہشت گردی کی صورت میں سامنے آیا۔ مارشل لاؤں نے پاکستان سے قومی عزت نفس یا با الفاظ اقبال خودی کی دولت چھین لی اور قوم ایک منتشر ہجوم میں تبدیل ہوگئی ۔صوبائ، نسلی ،لسانی اور فرقہ وارانہ تفریقات نے  ایک دوسرے کو غیر اور کافر قرار دینے کی روایت اور نفرت پیدا کی جس نے قومی و ملی طور پر کمزوری اور ناتوانی کو فضوں تر کر دیا ۔آج اگر ہم پتھر کے دور میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو اس کی وجہ ہم خود ہی ہیں اگر اس قوم کا ہر فرد مقروض ہے تو اپنی ہی وجہ سے جب پاکستانی حکمران دنیا سے قرض اور امداد کی بھیک مانگنے جاتے ہیں تو دنیا کے سامنے کسی فرد کا ہاتھ نہیں پھیلا ہوتا بلکہ پوری قوم کا دست سوال دراز ہوتا ہے۔ایسی قوم کی عزت سلامت رہتی ہے نہ غیرت نا عزت نفس نہ خودی۔ ہم بے شک اپنی زبان سے اپنی کمزوریوں کا اقرار نہ کریں لیکن ہمارا انفرادی و اجتماعی مزاج ناتوانی و بے حمیتی کی صفات کا مرقع ہے۔ ہمارا ہر عمل اسی شکوے کی غمازی کرتا ہے جس کا اظہار اقبال کی نظم شکوہ میں بیان ہوا ہے ۔۔۔

اقبال کی نظم جواب شکوہ کو عموما شکوہ کے ردعمل کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے لیکن فی الاصل یہ نظم پہکی نظم کا ناگزیر حصہ یے اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ  "جواب شکوہ" اقبال کے مجموعی شعری مزاج کا نقطہ آغاز ہے۔ پہلی نظم میں انہوں نے قومی کردار کی عکاسی کی ہے تو اس نظم میں کردار سازی کا عنصر غالب ہے اگر اختصار سے بات کی جائے تو اقبال نے مسلمان قوم کو زوال سے نکلنے کا نسخہ تعلیم کیا ہے جو قرآنی تعلیمات اور سیرت رسول پر عمل پیرا ہونے میں مضمر ہے ۔ پوری نظم اس کی تفصیلات پر مشتمل ہے ۔اقبال نے زوال کی وجوہات اور کمال تک پہنچنے کا راستہ بتایا ہے لیکن قوم 1912 میں جس دلدل میں پھنسی ہوئی تھی آج اس دلدل میں کچھ اور بھی گہری اتر چکی ہے۔ اقبال نے جواب شکوہ میں مسلمانوں کو زوال سے نکلنے کی جو راہ سجھائی وہ آج بھی ویران ہے قومی زوال اور کردار کی ناتوانی نے اس دور میں بھی قوم کو اس راہ سے دور رکھا اور ایک صدی گزرنے کے بعد اس راہ سے آج اور بھی دور نکل آئی ۔  زواک کی ڈھکان پر اور بھی نیچے اتر آئی۔ تب بھی اور آج بھی اس قوم کو غیروں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اپنوں نے۔ بوری بند لاشیں بھی مسلمانوں کی ہیں اور ان کی بوریاں بنانے والے بھی مسلمان ہیں ۔بم دھماکوں میں مرنے والے بھی مسلمان ہیں اور یہ دھماکے کرنے والے بھی مسلمان ہیں اس خطے میں یہودیوں عیسائیوں اور ہندوؤں نے اتنے مسلمانوں کا قتل نہیں کیا جتنے خود مسلمانوں کے اپنے ہاتھوں مارے گئے ہیں ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے صوبے میں مختلف ہیں ہیں ،زبانیں مختلف ہیں۔  ثقافتیں مختلف ہیں ،ہمارے فرقے مختلف ہیں ، ہماری نسلیں مختلف ہیں  لیکن ہماراخدا ،رسول ، کتاب، دین  ایک ہے۔ ہمارے افتراقات کم اور اشتراکات زیادہ ہیں ۔ اور عالمی قوتیں ہمیں مٹانے کے درپے ہیں ہمیں اتحاد کی جتنی ضرورت آج ہے ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں اس کی ضرورت اتنی زیادہ کبھی نہیں تھی۔

ہماری دنیوی و اخروی نجات کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہم سیرت رسول سے مکمل آگاہی حاصل کریں اور تمام تفریقات کو بھلا کر اس پر عمل پیرا ہوجائیں۔اقبال کی  شاعری میں اسی طرز حیات کا نام عشق ہے ۔ جب تک ہم اس طرز حیات کو اختیار نہیں کریں گے اسی کمزوری ناتوانی اور نامردی کا شکار رہیں گے کیونکہ یہ قرآن و سنت ہے جنہوں نے عرب کے بدوؤں کو وہ قوت و اختیار عطا کیا جس نے روم و ایران جیسی اپنے دور کی سپر پاورز کے پرزے اڑا دیے آج اگر مسلمان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سامنے عاجز ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے وسائل کم ہیں بلکہ یہ کہ ہمارا کردار وہ نہیں ہے جس کی طرف اقبال نے "جواب شکوہ "میں اشارے کیے ہیں ہم اپنی اصل سے کٹ گئے ہیں جس کی طرف اقبال نے "جواب شکوہ "کے آخر میں متوجہ کیا ہے 

No comments:

Post a Comment