Subscribe Us

Breaking

Sunday, February 27, 2022

یوکرین کے چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ سے گاما شعاؤں کا اخراج

چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ سے گاما شعاؤں کا اخراج,ukrain russia war
چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ سے گاما شعاؤں کا اخراج

روس اور یوکرین میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے ۔

چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ پر روسی قبضے کے بعد دنیا پر جوہری خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں، روس کے اس قبضے کے بعد پوری عالمی دنیا سخت تشویش میں مبتلا ہے۔

یوکرینی نیو کلیئر ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چرنوبل ایٹمی پلانٹ سے گاما شعاؤں کا اخراج شروع ہو گیا ہے ۔

جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تھڑی سی بھی غفلت ہوئی تو پہلے کی طرح کوئی اور بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک سانحہ 1986ء میں پیش آیا جس میں چرنوبل سے تابکاری شعاؤں کے اخراج سے 93ہزار افراد لقمہ اجل بنے تھے ۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس متاثرہ علاقے میں 24ہزار سال کوئی انسان آباد نہیں ہو سکتا 

آپ کو بتاتے چلیں کہ روس کا یوکرین پر حالیہ حملہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی یورپی ملک پر ہونے والی سب سے بڑی فوجی یلغار ہے۔

روسی افواج نے سب سے پہلے مشہور ایٹمی پلانٹ چرنوبل پر قبضہ کیا ۔ یوکرینی ایجنسی نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس قبضے کے بعد پلانٹ سے تابکاری شعاؤں کا اخراج شروع ہو گیا ہے جبکہ روسی بیان میں کہا گیا ہے کہ شعاؤں کا اخراج نارمل سطح پر ہے۔

26اپریل 1986ءکو اسی چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ایک ناکام سیفٹی ٹیسٹ کے دوران اس پلانٹ کا چوتھا ری ایکٹر دھماکے سے تباہ پو گیا تھا۔اس دھماکے سے نکلنے والی تابکاری شعاؤں نے یوکرین کے علاوہ بیلاروس، روس اور یورپ کو بھی متاثر کیا تھا اس کے علاوہ اس کے اثرات امریکہ کے مشرقی علاقوں تک بھی پہنچے تھے۔ 

اس تابکاری کے باعث لوگوں میں سرطان کے مرض نے شدت پکڑی اور اس مرض کی وجہ سے دنیا بھر میں 93ہزار لوگ مارے گئے۔

دوسی طرف روسی یلغار مسلسل جاری ہے اور روس کی افواج خارکیف شہر میں داخل ہو چکی ہیں ۔جبکہ یوکرین کا روس کے 4300فوجی مارنے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔

روس کے اس شدید حملے کے بعد پولینڈ،جرمنی اور فرانس نے ہتھیار یوکرین بھجوانے کا بھی اعلان کیا ہے اس کے علاوہ امریکہ اور یورپی ملکوں کا روس پر مزید پابندیاں لگانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں میں تمام یورپی ملکوں نے روسی طیاروں پر اپنی فضائی حدور بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یورپی کمیشن کے صدر کا مخصوص روسی بینکوں کو سوئفٹ بینکنگ سسٹم سے نکالنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔ 

No comments:

Post a Comment