Subscribe Us

Breaking

Saturday, February 26, 2022

روس اور یوکرین تنازع،تاریخی پس منظر

روس اور یوکرین تنازع،تاریخی پس منظر

روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں
روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں

 مشرقی یورپ میں روس کے بعد رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک یوکرین ہے۔

 گزشتہ چند ماہ سے یوکرین پوری علمی دنیا میں بہت زیادہ ہائی لائٹ ہو رہا ہے جس کی وجہ اس کا روس کے ساتھ جغرافیائی تنازع ہے جو اس وقت شدت اختیار کر چکا ہے ۔ 

روس اور یوکرین میں جن علاقوں کی وجہ سے تنازعہ چل رہا ہے وہ یوکرین کے دو علاقے "دونیسک" اور "لوہانسک" ہیں جس کو روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خودمختار اور آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں
روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں

اگر ہم گذشتہ سو سالہ تاریخ کو دیکھیں تو جغرافیائی لحاظ سے چلتے اس تنازع کی جڑیں سو سالہ تاریخ کے اندر ہمیں نظر آئیں گی ۔

مغربی ممالک کی حمایت سے روس کے لئے درد سر بننے والا ملک یوکرین 1920ء سے لے کر 1991ء تک سوویت یونین کا حصہ رہا ہے لیکن نوے کی دہائی میں جب سویت یونین کا زوال شروع ہوا تو اس وقت یونین سے علحدہ ہونے والے ممالک میں یوکرین پہلا ملک تھا جو 16 جولائی 1990ء کو سوویت یونین سے علحدہ ہو گیا ۔

اس علحدگی کے صرف ایک سال بعد ہی 24اگست 1991ء کو یوکرین نے اپنی آزادی اور خود مختاری کا بھی اعلان کر دیا ۔

یوکرین نے اپنی خودمختاری کا اعلان تو کر دیا لیکن یولرین میں موجود تقریباً 17فیصد روسی النسل اور اس کے علاوہ روس کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے کچھ گروہوں اور یوکرین کی حمایت کرنے والے مغربی  گروپس میں تنازعات کا بھی آغاز ہو گیا 

اس سارے عرصے میں روس اور امریکہ کے درمیان بھی سرد جنگ جاری رہی کیونکہ امریکہ اور روس روایتی حریف ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی دنیا پر حکمرانی کی دوڑ میں بھی پیش پیش ہیں۔ امریکہ یوکرین کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔

روس کو یورپ میں نہچا دکھانے کے لئے امریکہ نے ایک اور حکمتِ عملی اپنائی جس کے تحت امریکہ نے نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر پولینڈ، لٹوانیہ اور رومانیہ میں اپنی فوج اور ہتھیاروں کی ترسیل شروع کر دی کیونکہ یہ تینوں ممالک ایسے تھے جن کی سرحدیں یوکرین کے ساتھ ملتی تھیں۔

روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں
روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں

2104ء تک یوکرینی سرحد پر موجود بیلا روس وہ واحد ملک تھا جس کے روس کے ساتھ تعلقات بہتر تھے باقی تمام ممالک کے ساتھ روس کے خاطر خواہ تعلقات نہیں تھے۔

2014ء میں روس اور یوکرین کے تنازع نے شدت اختیار کر لی اس وقت کے یوکرینی صدر وکٹر ینکووچ تھے جو روس کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے اور روسی حمایت کے کئے اس نے یورپی یونین کے ساتھ منسلک ہونے کا جو معاہدہ ہوا تھا اس کو بھی مسترد کر دیا جس کی وجہ سے یوکرین میں کافی بٹے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گئے اور اس احتجاج کے نتیجے میں صدر وکٹر ینکووچ کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔

روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں
روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں
  اسی اثنا میں یوکرین کے علاقوں کی طرف سے روسی سرحر پر سیکیورٹی فورسز پر حملے ہونا شروع ہو گئے کس کو بنیاد بنا کر روس نے بھی کرائمیا پر حملہ کر دیا اور اس پر قبضہ کر کیا جو اب تک روس کے قبضے میں ہی ہے ۔

جیسے ہی روس نے کرائمیا پر قبضہ کیا تو یوکرین کے کچھ علحدگی پسند گروپوں نے ملک کی مشرقی سرحد کی جانب پیش قدمی شروع کر دی اور حالات نے خانہ جنگی کا رخ اختیار کر لیا۔ 

روس نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ یوکرینی گروہ جن کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے وہ توروسی النسل علاقوں میں فساد برپا کر رہے ہیں۔

اور اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے مغربی ممالک نے یہ بیان جاری کیا کہ روس کی مدد سے شر پسند عناصر یوکرین میں بدامنی اور فساد پھیلا رہے ہیں۔

دونوں فریقین کی جانب سے فسادات پھیلانے کا سلسلہ جاری رہا اور اس اثنا میں ایک محتاط اندازے کے مطابق  ان فسادات اور جھڑپوں میں تقریباً 14 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔

2015ء میں فرانس نے ثالث کا کردار ادا کیا اور تمام ھروپوں میں معاہدہ ہو گیا لیکن اس کے باوجود جھڑپیں جاری رہیں اور ان جھڑپوں میں 2021ء کے آخر میں مزید شدت آ گئی۔

امریکہ نے روس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ روس ایک مرتبہ پھر یوکرین پر چڑھائی کرنے کے لئے تیاری کر رہا ہے اور مغربی میڈیا اس خبر  کو مزید ہوا دینے لگا یہاں تک کہ جنگ کے آغاز کی پیش گوئی بھی کی جانے لگی۔

اس تنازع کے حل کے لئے روس ، امریکہ اور باقی مغربی ممالک کے درمیان روابط کا سلسلہ بھی جاری رہا لیکن 22 فروری کو روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے دو علاقوں جن میں 'دونیسک'  اور 'لوہانسک' شامل ہیں کو آزاد ریاستوں کے طور پر قبول کر لیا اور اور امن قائم کرنے کی غرض سے اپنی افواج ان دونوں ریاستوں میں بھیج دیں۔ 

روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں
روس اور یوکرین تنازع ، سو سالہ تاریخ کے آئینے میں

روس کے اس قدم کا ساری  عالمی برادری کی طرف سے شدید ردعمل آیا لیکن امریکہ کا رد عمل اس معاملے میں کچھ زیادہ سخت تھا امریکی وزیر خارجہ نے تو یہاں تک کہا کہ روس کے اس عمل کا فوری اور مضبوط  جواب دینا ہو گا۔

روس کے اس قدم کے بعد امریکہ نے روس پر پابندیاں بھی لگا دی ہیں جس سے معاملات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تمام عالمی دنیا اس تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے سے حل کرنے پر زور دے رہی ہے کیونکہ اگر اس تنازع میں مزید شدت آ گئی تو نہ صرف یہ دونوں ملک اس سے متاثر ہوں گے بلکہ پوری دنیا پر اس جنگ کے اثرات نمایاں ہوں گے۔

No comments:

Post a Comment