Subscribe Us

Breaking

Monday, March 7, 2022

اردو ہے جس کا نام

اردو ہے جس کا نام

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

اللہ تعالی نے انسان کو تخلیق کیا کیا اور جذبات اور احساسات کے اظہار کے لیے اسے بولنا سکھایا یا زبان عطا کی جس سے وہ بامعنی گفتگو کرتا ہے اور اپنا مدعا دوسروں تک پہنچاتا ہے ۔ یہ زبان اللہ کی نشانیوں میں سے سے ہے یہی زبان انسانوں کے درمیان رابطہ کا اہم ترین ذریعہ ہے اگر زبان نہ ہو تو کوئی محرم راز نہ ہو کوئی محرم دل نہ ہو 

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

ایک ایسا ملک جس میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں اس ملک میں اتحاد قائم رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ایک ایسی زبان ہو جسے سب سمجھیں اور جس کے ذریعے اپنے دل کی بات دوسروں کو سمجھا سکیں۔ ایسی زبان قومی زبان کہلاتی ہے قومی زبان علاقائی زبانوں کی مخالف نہیں ہوتی اور نہ علاقائی زبانوں کو اس کے مقابل آنا چاہیے آئے۔تقاںل اور مخالفت کی یہ کیفیت ملک اور قوم کے کئے زوال کا باعث بنتی ہے۔ قومی زبان اتحاد کا ایک قابل قدر ذریعہ ہوا کرتی ہے اور علاقائی زبانیں اس کے زیر سایہ ترقی کی منزلیں طے کیا کرتی ہیں ۔قومی زبان کسی قوم کی ثقافت کا سب سے اہم جزو قرار پاتی ہے۔

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

دنیا کی ہر قوم قوم اپنی قومی زبان کو فروغ دیتی ہے اس کی حفاظت کے لیے اسباب مہیا کرتی ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنی ثقافت کو محفوظ بنایا جاسکے اور آنے والے نسلوں تک وہ ثقافت منتقل کی جا سکے اسی لئے اقوام عالم اپنی قومی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیتی ہیں اسے ذریعہ تعلیم بناتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جرمنی میں جرمن زبان ،روس میں روسی، برطانیہ میں انگریزی، پولینڈ میں پولش، چین میں چینی اور جاپان میں جاپانی زبان کو سرکاری اور تعلیمی زبان کا درجہ حاصل ہے۔

اردو پاکستان کی قومی زبان ہے ہے یہ مختلف علاقوں خطوں اور صوبوں کے درمیان ایک رابطے کی زبان ہے جس کا کام نہ آشناؤں کے درمیان آشنائی کے روابط مستحکم کرنا ہے ۔یہی وہ زبان ہے ہے جو دلوں میں محبت کے جذبات ابھارتی ہے اور ٹوٹے ٹکڑوں کو جوڑتی اور بکھرے دانوں کو یکجا کرتی ہے اسی لئے اسے قومی زبان ہونے کا شرف حاصل ہے۔ حق یہ ہے کہ قومی زبان کسی ملک کی عزت و توقیر کا باعث ہوتی ہے اور زندہ قومیں اسے نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا کرتیں بلکہ اس پر فخر وناز کیا کرتی ہیں

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

اردو زبان ہے باعث توقیر ارض پاک

اسلام عرب کے ریگستان سے اٹھا اور ایران کے راستے یہاں تک آیا۔ عربی نے اسلامی اثرات فارسی پر مرتب کیے ۔ گویا عربی اور فارسی میں اسلامی تہذیب و تمدن کے نقوش واضح، پختہ اور نمایاں ہیں ان دو زبانوں کے بعد اردو ایک ایسی زبان ہے جس میں سب سے زیادہ اسلامی روح موجود ہے ۔ اسی بنیاد پر ہندوؤں نے اردو کی مخالفت کی اور اسے مسلمانوں کی زبان قرار دیا حالانکہ یہ مختلف قوموں کے میل جول کا ایک فطری نتیجہ ہے یہ مختلف زبانوں کی ایک ملی جلی شکل ہے یا دوسرے لفظوں میں ایک ترقی یافتہ صورت ہے ۔

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

اسے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے پکار ا جاتا رہا ہے۔ کبھی اسے ہندوی، کبھی لاہوری، کبھی ہندی، کبھی اردو معلی کے نام دیے گئے لیکن آخر کار یہ اردو کے نام سے معتبر ٹھہری ۔ جہاں تک اس کی آغاز کا تعلق ہے تو اس کے متعلق کئی نظریات ہیں نصیر الدین ہاشمی اردو زبان کا سراغ رکن میں لگاتے ہیں۔ سید سلمان ندوی کا خیال ہے کہ مسلمان فاتحین جب سندھ پر حملہ آور ہوئے اور یہاں کچھ عرصے تک ان کی باقاعدہ حکومت بھی رہی اس دور میں مقامی لوگوں سے اختلاط وارتباط کے نتیجے میں جو زبان وجود پذیر ہوئی وہ اردو کی ابتدائی شکل تھی۔ لیکن سب سے مضبوط نظریہ حافظ محمود شیرانی کا ہے۔ انہوں نے اپنے گہرے لسانی مطالعے اور مدلل تحقیقی بنیادوں پر اردو زبان کے متعلق یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ اردو کی ابتداء پنجاب میں ہوئی 

ان کے مطابق اردو کی ابتداء اس زمانے میں ہوئی جس وقت محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری ہندوستان پر پے درپے حملہ آور ہو رہے تھے ۔انہی حملوں کے نتیجے میں جو فارسی بولنے والے مسلمانوں تھے ان کی مستقل حکومت یہاں  پنجاب میں قائم ہوئی اورجب  دہلی کی حکومت ہوئی تو اس کے قیام سے تقریباً دو سو سال تک یہ فاتحین یہاں پر قیام پذیر رہے ۔ اس نظریے کی صداقت کے طور پر  شیرانی صاحب نے اس علاقے  میں بسنے والے  کئی  سے شعراءکرام  کا کلام  نمونے جے طور پر پیش کیا ہے۔ جس میں پنجابی ،فارسی اور مقامی بولیوں کے اثرات سے ایک نئی زبان کی ابتدائی صورت نظر آتی ہے۔


اردو کے فروغ میں سب سے زیادہ حصہ ان صوفیاء کا تھا جو عام لوگوں سے رابطے کے لیے اسے ذریعہ اظہار بناتے تھے  اگرچہ یہ اردو زبان کی ابتدائی صورت تھی لیکن بہت جلد اس نے  ہندوستان میں عوامی زبان کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔ صوفیاء اکرم نے اسے صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے شعر کے اظہار کا وسیلہ بھی بنایا۔

مغلیہ دور میں یہ زبان شاعری میں استعمال ہونے لگی ولی دکنی کو پہلا غزل گو شاعر کہا جاتا ہے اور پھر مغلوں کے دور زوال میں اسے بڑے بڑے شعراء مثلاً میر درد ،میر تقی میر اور غالب نے اسے ذریعہ اظہار بنایا ۔ انگریزوں کی آمد سے اسے قوت ملی۔ انھوں نے  مغلوں کی سرکاری زبان فارسی کو دیس نکالا دینے کے لیے اردو کو فروغ دیا اس سلسلے میں انہوں نے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کب قائم کیا جہاں سے اردو نثر کو فروغ حاصل ہوا اور جسے بعد میں سرسید کی تحریک علی گڑھ نے باقاعدہ نثر کی زبان کا درجہ دے دیا اور پھر بعد میں قیام پاکستان سے پہلے اردو مسلمانوں کی علمی، ادبی، سیاسی، صحافتی اور عوامی زبان کے طور پر سامنے آئی۔ 

اقبال اشعر کی یہ نظم بڑے خوبصورت انداز میں اس تاریخی سفر کو بیان کر رہی ہے۔

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

برصغیر پاک و ہند کی جدو جہد آزادی میں اردو ہی رابطے کی ایک زبان رہی ہے م۔ سیاست دان اسی زبان کو وسیلہ اظہار بناتے رہے۔ مقررین اسی زبان کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو گرماتے اور جذبات کو بھڑکانے رہے۔مفسرین اسی زبان میں قرآن کی تفسیر لکھتے رہے ۔ادبا اور شعراء اسی زبان کے ذریعے غلام دلوں میں آزادی کا ولولہ پیدا کرتے رہے۔

گاندھی سے کے کر نہرو تک، ابوالکلام آزاد سے کے کر مولانا شبیر احمد عثمانی تک سبھی نے اسی زبان کو اپنایا۔ قائد اعظم کی بصیرت نے اسی لیے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا کیونکہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ جب تک کسی قوم کا الگ تشخص نہ ہو اس وقت تک اس کے خیالات میں انفرادیت نہیں آیا کرتی اور نہ اس کی سوچ قومی سطح پر نکھر سکتی ہے۔

"پاکستان کی قومی زبان اردو اور صرف اردو ہو گی"

(قائد اعظم 21مارچ1947ء ڈھاکہ)

گو اردو ہماری زبان ہے مگر انگریز کی غلامی کے اثرات ہمارے ذہنوں سے محو نہیں ہوئے۔ ہم احساس کمتری میں مبتلا ہیں ہم ہر مقام پر انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ انگریزی اس خیال سے ضروری ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی زبان ہے انگریزی کو پڑھنا ضرور چاہیے مگر انگریز نہیں بننا چاہیے اردو  کے مقابلے میں اسے اہمیت نہیں دینا چاہیے ہمارے ہاں کوشش کے باوجود اردو بی-اے میں بطور لازمی مضمون نہیں پڑھائی جاتی. انگریزی کے مقابلے میں اس کی حیثیت ایک اختیاری مضمون کی ہے بطور قومی زبان اردو کی یہ توہین ہے آزاد قومیں اپنی زبان، اپنی تہذیب ،اپنی روایا ت اور اپنے لباس کی توقیر کو ہمیشہ قائم رکھا کرتی ہیں مگر افسوس کہ ہمارا لباس بھی مغربی ہے اور ہماری زبان بھی مستعار ہے ۔

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

حقیقت یہ ہے کہ مانگے تانگے کی زبان کے ذریعے گفتگو کرنے والے قومی فکر سے بیگانہ اور ملی آبرو سے بے نیاز ہوتے ہیں ایک دفعہ چین کے وزیراعظم چو این لائی پاکستان آئے ان کا یہاں ہر مقام پر انگریزی میں استقبال ہوا مگر انہوں نے ہر خیرمقدم کا جواب چینی زبان میں دیا گو وہ انگریزی کے فاضل تھے مگر انہوں نے اپنی قومی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا کیونکہ ان کے الفاظ میں "چین گونگا نہیں ہے".

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

بطور ایک آزاد قوم ہمیں اپنی قومی زبان اردو کو ذریعہ تعلیم بنانا چاہیے اور دفتری زبان بھی ضروری ہے کہ بی اے تک اسے ایک لازم مضمون کی حیثیت حاصل ہو اور یہ بھی کہ مقابلے کے تمام امتحانات کے لئے ذریعہ اظہار یہی زبان ہو ۔اردو اسلامی فکر و نظر کی حامل ہے یہ ہماری تہذیب اور ثقافت کی عکاس ہے۔ آج کل اس پر انگریزی زبان مسلط ہے اس کی یر ملکی اور غیر اسلامی زبان نے ہمارے فکری اور تہذیبی سانچے کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔ طلبہ نظریاتی اعتبار سے الجھ گئے ہیں اور اس الجھاؤ نے ہمارے کردار و عمل کو پامال کر رکھا ہے ۔

حقیقت یہی ہے کہ جس قوم نے بھی غیروں کی روایات اور قدروں کو اپنایا وہ ٹوٹ پھوٹ گئی اور غیروں کی محکوم ہو کر رہ گئیں ان کا لباس اور اپنی تہذیب چھوڑ کر غیروں کی زبان، لباس اور تہذیب کو اپنانا نظریاتی خودکشی ہے ۔انگریزی بین الاقوامی زبان ہے اسے وہی پڑھیں جو اس کے خواہش مند ہیں اسے پوری قوم پر مسلطکرنے کا  نتیجہ یہ ہے کہ نسل نو ایک مرعوب قوم بن کر رہ گئی ہے  وہ نہ سچی مسلمان رہی ہے اور نہ پاکستانی ۔ہماری سربلندی کا راز یہ ہے کہ ہم زندگی کے ہر میدان میں ایک مسلمان اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے زندہ رہیں مگر انگریزی زبان نے ہمارے اندر اسلام دشمن تصورات کو پختہ کر دیا ہے اور ہم صرف نام کے مسلمان ہیں جبکہ عمل کے اعتبار سے ہمارے پاس ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ارباب اختیار اردو کی اہمیت کو سمجھنے لگ گئے ہیں اور اس کے بارے میں مختلف اقدام بھی ہو رہے ہیں مگر انتہائی سستی اور بے دلی کے ساتھ۔ ہم اس قدر احساس کمتری میں مبتلا ہیں کہ قومی زبان کی طرف طبیعت آمادہ ہی نہیں ہوتی ورنہ کیا ہے جو ہماری زبان میں موجود نہیں ہے الفاظ و تراکیب کا سرمایہ بھی ہے اصطلاحات و علامات کی فراوانی بھی ہے اور اظہار و بیان کی شگفتگی بھی ۔ اردو کو اس کا جائز مقام دینے کے لئے ایک جرات مندانہ فیصلے کی ضرورت ہے اور جرات مندانہ اقدام ہی  قوموں کےدر و دیوار کا رنگ و روغن بدلا کرتے ہیں۔  جرات غیرت سے پیدا ہوتی ہے اور غیرت کے لئے دل میں قومی وقار کا کماحقہ، احساس ضرور ی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ احساس یقین کے سانچے میں ڈھل جائے اگر قومیت کا احساس یقین بن کر ہمارے دلوں کا حصہ نہ بنا تو اردو قومی زبان ہوتے ہوئے بھی پسماندہ اور یتیم رہے گی

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،

بہرکیف اردو ہماری قومی زبان ہے، ہماری فکر و نظر کا بہترین ذریعہ اظہار ہے ہمارے لیے یہ ایک بہترین ذریعہ تعلیم ہے۔ دفتری فائلیں اس کی منتظر ہیں،پاکستان کی فضائی آرزو مند ہیں کہ ہر پاکستانی اپنی زبان میں بولے اور سوچے اور ہماری زبان اور ہمارے خیالات کو سمجھنے کے لئے ترجمان رکھنے پر مجبور ہوں۔

اردو اسلامی تہذیب اور ثقافت کی امین ہے بہترین ادبی اور شعری سرمایہ رکھتی ہے اور اس کی بنیادوں میں اس کے لہو کی رنگینی ہے۔ 

اردو ہے جس کا نام،اردو ادب،اردو مضمون،تاریخ اردو ادب،اردو تاریخ پر مضمون،اردو زبان پر مضمون،اردو،مضمون،


No comments:

Post a Comment