Subscribe Us

Breaking

Wednesday, March 9, 2022

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال(مضمون)

شاعر مشرق ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال


یہ با ت روز روشن کی طرح عیاں و اجاگر ہے کہ اس جہان فانی میں لاکھوں کروڑوں انسان جنم لیتے ہیں اور اپنا اپنا پیریڈ مکمل کر کےراہی ملک عدم ہو جاتے ہیں۔اس جہان رنگ و بو میں ایسی عظیم ہستیاں بھی آئی ہیں جو آسمان شہرت پر آفتاب و مہتاب بن کر چمکیں اور شہرت دوام پا کر رخصت ہوئیں۔ انہی عظیم ہستیوں میں سے برصغیر کے اس ٹکڑے اور خطے میں ایک عظیم عالم اسلام کے مفکر ، اردو کے بلند پایہ شاعر، عظیم فلسفی، لاجواب لیڈر اور بے مثال شخصیت حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے جنم لیا 

علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور ایمان افروز پیغامات سے مسلمانان ہند کو بالخصوص اور مسلمانان عالم کو بالعموم خواب غفلت سے بیدار کیا۔ برصغیر کے مسلمانوں کو تصور پاکستان دیا۔ تخلیق ارض پاک دراصل آپ کی فکری کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

علامہ اقبال پنجاب کے مشہور شہر سیالکوٹ میں 9نومبر 1877ء کو شیخ نور محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم دینی مدرسے میں حاصل کرنے کے بعد آپ کو سکاچ مشن ہائی سکول میں داخل کروا دیا گیا جہاں سے آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد مرے کالج سیالکوٹ سے ایف-اے کا امتحان اعزازی نمبروں سے پاس کیا یہاں پر آپ کو سید میر حسن جیسے شفیق استاد ملے جنہوں سے آپ کی شخصیت میں علمی و ادبی ذوق پیدا کیا اقبال ان کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے۔

اس کے بعد آپ نے لاہور کے لئے رخت سفر باندھا اور یہاں آکر گورنمنٹ کالج لاہور میں بی-اے کا امتحان 1897ء میں پاس کیا۔ یہیں پر آپ کی ملاقات پروفیسر آرنلڈ اور شیخ عبد القادر سے ہوئی جن کا اقبال کی زندگی سے گہرا تعلق رہا۔ اس کے بعد آپ نے ایم-اے فلسفہ کی ڈگری 1899ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی۔ بعد ازاں آپ اورینٹل کالج میں فلسفہ،تاریخ اور سیاسیات کے استاد مقرر ہوئے پھر کچھ عرصہ آپ گورنمنٹ کالج میں انگریزی اور فلسفہ بھی پڑھاتے رہے۔

1905ء میں آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے جہاں سے آپ نے بیرسٹری کا امتحان پاس کرنے کے ساتھ ساتھ کیمرج یونیورسٹی سے فلسفہ کی اعلیٰ ڈگری بھی حاصل کی بعد ازاں وہاں سے جرمنی چلے گئے جہاں سے آپ نے "ایران اور مابعدالطبیعیات" کے عنوان سے مقالہ لکھ کر "پی ایچ ڈی" کی ڈگری حاصل کی۔ یورپ کے اس تین سالہ قیام میں اقبال نے تین ڈگریاں حاصل کیں جس میں کیمرج سے بی-اے ،میونخ سے پی ایچ ڈی اور لنکنز ان سے بیرسٹر ایٹ لا کی ڈگریاں شامل تھیں اقبال کے معاصرین میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی شخص نے تین سال میں تین ڈگریاں حاصل کی ہوں۔1908ء میں اقبال وطن واپس آگئے۔

واپس سیالکوٹ آ کر کچھ روز بعد آپ نے لاہور کی ضلع کچہری سے وکالت کا آغاز کیا۔ حالانکہ ان کو کئی جگہ سے ملازمتوں کی پیش کش بھی ہوئی لیکن نوکری ان کی آزاد منش طبیعت سے میل نہیں کھاتی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے وکالت کرنے کا فیصلہ کیا۔

یورپ کے سفر سے پہلے اقبال مغربی افکار سے بہت متاثر تھے جس کی باعث اقبال کی شخصیت میں وطن پرستی کے اثرات نمایاں تھے جس کا اندازہ اس دور کی نظم "ترانہ ہندی" سے لگایا جا سکتا ہے۔


لیکن یورپ کے سفر میں اقبال نے کھلی آنکھوں سے مغربی تہذیب کا مشاہدہ کیا جس سے اقبال کو مغربی تہذیب کی سطحیت،بودے پن اور اس کی تاریکی کا اندازہ ہوا ۔ اسی وجہ سے اقبال نے یورپ سے واپسی پر مغربی تہذیب سے بیزاری اور اسلامی تصورات کی طرف رجوع کیا۔ جس کا اظہار ان کی اپنی نظم 'ترانہ ملی' میں دیکھا جا سکتا ہے 


اقبال نے جب مغربی تہذیب اور معاشرت کو دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہے جس کے نتیجے میں اسلام کی حقانیت اقبال پر واضح اور پختہ ہوتی چلی گئی۔ اقبال نے خود ایک جگہ اعتراف کیا ہے کہ

"یورپ کی آب و ہوا نے مجھے مسلمان کردیا"

اقبال نےاسلامی نظریہ حیات کی برتری اور اس کے غلبے کے لئے کوشش و کاوش اور جدو جہد کا اعلان بھی کر دیا یورپ کے زمانہ قیام میں ہی مارچ 1907ء کی غزل میں وہ سالار قافلہ بن کر اہل قافلہ کی رہبری کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔


اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان مغربی تہذیب کے اصل خدوخال کو جان لیں اور اس کے دھوکے میں نہ آئیں۔


اقبال نے جس دور میں آنکھ کھولی وہ مسلمانوں کے زوال کا دور تھا۔ پوری دنیا میں عالم اسلام زوال کی پستیوں کی طرف لڑھک رہا تھا۔ہندوستان مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔سیاسی اسلام کے زوال اور خاتمے کے بعد فکری زوال بھی اپنی انتہاؤں کو پہنچ گیا تھا۔مسلمانوں کے فہم اسلام میں کمزوری کا یہ عالم پیدا ہو گیا کہ اسلام صرف دعاؤں اور عبادات تک محدود رہ گیا۔ وہ دین جو ساری زندگی کا قرینہ تھا اب عبادتوں اور ریاضتوں کا سفینہ بن چکا تھا۔


زوال کے اس دور میں اقبال روشنی کا پیامبر بن کر ابھرا اور مجازی محبوب کی تعریف و تحسین کی بجائے اپنی شاعری سے مسلمانوں کے دلوں میں جوش اور ولولہ جگایا اور اپنے ہر شعر میں زندگی آمیز اور زندگی آموز پیغام دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پیغام ، بت کدوں میں توحید کی آواز بن کر گونجنے لگا ۔


1908ء کے بعد اقبال نے جس تصور پر سب سے زیادہ زور دیا وہ تھا ملت کا تصور ۔ اقبال نے اپنی شاعری میں جا بجا اس طرف اشارہ کیا کہ مسلمان ایک قوم کی بجائے ایک امت ہیں جس کی بنیاد کسی رنگ،نسل یا زبان کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر رکھی جاتی ہے گویا نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر ایک ہی امت ہے جو ایک جسم کی مانند ہے۔


اقبال نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملت اسلامیہ کو مغربی اقوام کی طرح نہیں سمجھنا چاہیئے جو رنگ ،زبان اور نسل کی تقسیم میں الجھی ہوئی ہیں۔


اقبال زبان ، رنگ اور نسل کی بنیاد پر امت کی تقسیم کے خلاف تھے۔ اس لئے ان کی شاعری میں اس تصور پر بہت زیادہ تنقید پائی جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلم دنیا اس تقسیم سے ماورا ہو کر جسم واحد کی صورت ڈھل جائے جو اس کی اصل منزل ہے۔


اقبال امت میں کسی بھی قسم کی گرہ بندی کے مخالف نظر آتے ہیں ۔ خواہ وہ فرقہ بندی ہو ، وطنیت پرستی ہو یا نسل پرستی،اقبال ان سب کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔


اقبال کی شاعری کا اہم موضوع مسلمانوں کے سیاسی اور فکری زوال کا نوحہ ہے اقبال کی مشہور نظمیں شکوہ ،جواب شکوہ ،شمع اور شاعر، خطاب بہ جوانان اسلام وغیرہ اسی نوحے کا پرتو ہیں۔ اقبال اس مرض کی صحیح تشخیص کے بعد اس کا علاج بھی تجویز کرتے ہیں وہ مسلمانوں کو پھر سے اسلام کے ساتھ جڑنے اور اس کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔


اقبال کی شاعری میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد دہانی کا عنصر بہت نمایاں ہے۔ان کی نظموں میں جا بجا مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کو اپنے شاندار ماضی کی کہانی سنائی جاتی ہے۔ انھیں جھنجھوڑا جاتا ہے کہ وہ اپنے زوال سے نکلنے کے لئے تگ و دو کریں اور اپنے ماضی سے اپنی حقیقت کو جان کر مستقبل کے سفر کا تعین کریں


امت کے عروج کے لیے اقبال نوجوانوں کی اہمیت سے خوب واقف تھے اس لئے اقبال کے کلام میں اکثر نوجوانوں سے خطاب کی صورت نظر آتی ہے ۔ وہ نوجوانوں سے مخاطب ہوکر انہیں عمل اور مقصدیت کا درس دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں یہ درس ان کی شاعری میں جا بجا دیکھا جا سکتا ہے۔


اقبال کی شاعری میں ہمیں بہت سے افکارو تصورات ملتے ہیں جس میں تصور خودی،تصور بے خودی،تصور فقر،تصور عشق،تصور عقل،مرد کامل،نظریہ تصوف ،تصور تعلیم، نظریہ فن اور اس کے علاوہ جمہوریت،فاشزم،اشتراکیت اور سرمایہ داری جیسے تصورات اقبال کی شاعری کا نمایاں جز ہیں۔

اقبال کے افکارو تصورات میں ان کا فلسفٔہ خودی سب سے اہم اور نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔اقبال کی شاعری میں خودی کا تصور ابتدا ہی سے کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا اور اردو شاعری میں بھی وہ مختلف انداز و اسلوب سے اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں مثلاً


تصور خودی دراصل اپنے آپ کو پہچاننے کا نام ہے کیونکہ خود شناس انسان ہی اپنے خدا کی معرفت حاصل کر سکتا ہے خود شناسی کے لیے اقبال ہمارے سامنے وہی نسخہ رکھتے ہیں جو چودہ سو سال پرانا ہے۔ خودی کی تربیت و استحکام کے لیے اقبال نے تین مراحل کی نشان دہی کی ہے۔

1:اطاعت

2:ضبط نفس

3:نیابت الہٰی

اقبال کے بقول انسان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اپنے نفس کی تربیت سے اللہ کی نیابت کا حقدار بن سکتا ہے اور اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں رضائے الٰہی اس کا مقدر بن جائے۔


اقبال خودی کی حقیقت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں


تمام افکارو تصورات اور توحید کے بعد اقبال تمام مسائل کا صرف ایک ہی حل تجویز کرتے ہیں۔اور وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور ہر معاملے میں ان کے نقش قدم پر چلنا اور ان کی طرف رجوع کرنا ہی امت مسلمہ کے ہر مسئلے کا حل ہے۔ گویا توحید قوت عشق ہے تو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ راستہ ہے جو پریشان حال امت کو اندھیروں سے نکال سکتا ہے۔


اقبال ایک درد بھرا دل رکھتے تھے ان کے دل میں قوم کی محبت تھی وہ مسلمان قوم کی تباہ حالی کو دیکھ کر تڑپتے رہتے تھے انہوں نے دیکھا کہ برصغیر پاک و ہند میں ہندو متحد ہیں اور مسلمان بکھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کا بغور جائزہ لیاکہ ہندو اور مسلمان ایک ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ایک ملک میں رہ سکتے ہیں ۔ دونوں کی تہذیب، معاشرت اور مذہب کی قدریں جدا جدا ہیں ان میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے اور ہندوؤں کی تنگ نظری زندگی کے کسی بھی میدان میں مسلمانوں کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتی۔

چنانچہ ان کی مفکرانہ فطرت نے مسلمانوں کے لیے ایک ایسے آزاد وطن کا خواب دیکھا جس میں وہ اپنی تاریخ، اپنی روایات اور اپنی تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اقبال کی بصیرت کی روشنی میں اور قائد اعظم کی ہدایات کے تحت مسلمانوں نے ایک الگ وطن پاکستان کا مطالبہ کیا اور اس کے لئے انھوں نے اپنا لہو دیا،اپنی عزتوں اور جائیدادوں کو قربان کیا اور ہزاروں عصمتیں دے کر اس ایک عصمت کی بنیاد رکھی کس کا نام پاکستان ہے لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کی سفر ابھی تمام نہیں ہوا۔


اقبال کا پیغام اسلام کا پیغام ہے انہوں نے اپنی شاعری کے لئے قرآن کے سمندر سے موتی چنے ہیں اور قرآن ایک ایسا آئیں زندگی ہے جو ہر دور کے انسان کی ضرورت ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے خواہ وہ دینی ہے یا دنیاوی ،سیاسی ہے یا معاشرتی، فکری ہے یا نظری اور اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو یہی بتایا کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں روشنی قرآن سے لینا ہو گی۔


اقبال محض ایک شاعر نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا عظیم شاعر ہے جو تاریک راستوں پر چراغ جلاتا ہے جو کھو جانے والوں کو راستہ دکھاتا ہے۔ جو تاریکیوں میں منزلوں کی خبر دیتا ہے۔ بلاشبہ ایسے عظیم شاعر صدیوں میں ہی پیدا ہوا کرتے ہیں۔ 



No comments:

Post a Comment