Subscribe Us

Breaking

Thursday, March 3, 2022

یوکرینی صدر زیلسکی کا کامیڈین سے صدر بننے تک کا سفر

یوکرینی صدر زیلسکی کا کامیڈین سے صدر بننے تک کا سفر

ukrain presidenr zeelensky,wo is ukrain president

یوکرین اور روس کا تنازع اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ اگر اس تنازع میں شدت آگئی اور اس نے جنگ کی صورت اختیار کرلی تو اس سے پوری دنیا متاثر ہوگی گی۔
ان جنگی حالات میں اگر کوئی کوئی چیز سب سے زیادہ ہائی لائٹ ہوئی ہے تو وہ یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی (Volodymyr Zelenskyy)ہیں۔
یوکرینی صدر زیلنسکی جو صدر بننے سے پہلے ایک کامیڈین تھے ۔ کامیڈین سے صدر بننے تک کے سفر میں ان کو کن حالات سے گزرنا پڑا اور وہ صدارت کی کرسی پر کیسے بروجمان ہوئے ان تمام حالات و واقعات کو ہم آپ کے ساتھ مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ۔
پیدائش:
ولودی میر زیلنسکی 25جنوری 1978ء کو یوکرینی شہر کریوی ریہہ میں پیدا ہوئے جو اس وقت سوویت یونین کا حصہ تھا۔
زیلنسکی ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے ہوئے ان کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد ان کا خاندان منگولیا منتقل ہو گیا لیکن چار سال بعد وہدوبارہ ہوکرین اپنے آبائی شہر کے کریوی ریہہ میں آ کر آباد ہو گئے جہاں پر زیلنسکی نے اپنی تعلیم حاصل کی۔
کریوی ریہہ میں زیادہ تر لوگ روسی زبان بولتے تھے اس لیے یہ بھی روسی زبان بولنے والوں کے ساتھ پلے بڑھے لیکن انہوں نے یوکرینی اور انگریزی زبان بھی سیکھی اور اس میں مہارت بھی حاصل کی ۔
ابتدائی تعلیم کے بعد 1995ءمیں زیلنسکی نے کیف اکنامک یونیورسٹی میں جس کا کیمپس کریوی ریہہ میں موجود تھا اس میں داخلہ لے لیا اور یہیں سے قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ 
چونکہ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی تھیٹر میں کام کرنا شروع کر چکے تھے اس لیے انہوں نے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود بھی اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور باقاعدہ اداکاری شروع کر دی ۔

زیلنسکی اور اس کے کچھ ساتھی اداکاروں نے مل کر "کوارٹر 95" کےنام سے ایک گروپ بنایا اور 1975 میں ہونے والے ایک ٹیلی ویژن کے مزاحیہ مقابلے کے شو "کلب آف دی فنی اینڈ انوینٹو پیپل"(club of the funny inventive people) میں حصہ لیا۔ 
زیلنسکی کا یہ "کواٹر 95"نامی گرپ اس مقابلے کا سب سے مقبول ترین گروپ بن گیا اور خاص کر زیلنسکی کو اس سے بہت زیادو پذیرائی حاصل ہوئی ۔
2003 تک انہوں نے اس مقابلے میں حصہ لیا اس کے بعد انہوں نے اپنے گروپ "کواٹر 95" کے نام سے ایک پروڈکشن ہاؤس کی بنیاد رکھی اور جو کہ یوکرین کا سب سے کامیاب تفریحی سٹوڈیو کے طور پر جانا پہچانا گیا ۔ اپنی اس پروڈکشن کمپنی میں زیلنسکی 2011ء تک آرٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے اس کے 2011 میں ان کو "انٹر ٹی وی" ٹیلی ویژن چینل کا جنرل پروڈیوسر بنا دیا گیا لیکن 2013ء میں زیلنسکی ایک بار پھر "کواٹر95" میں بطور آرٹ ڈائریکٹر واپس آگئے ۔
2014ء میں یوکرین میں حالت کافی خراب ہو گئے کس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کے صدر "وکٹر ینکووچ" روس کے لئے کافی نرم گوشہ رکھتے تھے جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے اور صدر ینکوچ کو مستعفی ہونا پڑا اور "پیٹرو پورو شینکو" کو یوکرین کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا۔
روس اور آزادی پسند گروپوں کے درمیان مشرقی علاقوں میں جاری جھڑپوں کی وجہ سے یوکرین کے حالات سنبھلنے میں نہیں آرہے تھے انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیلی ویژن پر ایک شو "سرونٹ آف دی پیپل"(servent of the people) پیش کیا گیا۔
serventn of the people
servent of the people



جس میں زیلنسکی نے "سیلی گولوبورودکو" نام کے ایک استاد کی حیثیت سے کام کیا اور بعد میں اس شو میں وہ ایک استاد سے صدر کے عہدے تک جا پہنچے جہاں وہ لوگوں کے مسائل کو حل کرتے اس میں وہ دشمنوں کے خلاف بولتے اور ہتھیار اٹھاتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں جس سے یوکرین میں چلتی کشیدگی سے لوگوں میں پھیلی مایوسی میں امید کی ایک کرن روشن کی اور شاید اسی کردار نے ہی زیلنسکی کو صدر کے عہدے کی جانب جانے والے سفر کا روڈ میپ دیا ۔
2018ء میں زیلنسکی کے "کواٹر 95"نے اپنی سیاسی جماعت بنائی اور اس جماعت کو اپنے مشہور شو "سرونٹ آف دی پیپل" کے نام سے رجسٹر کروایا 
اپریل 2019ءمیں ہونے والے اچانک انتخابات میں زیلنسکی یوکرین کے صدر منتخب ہوئے اور 20مئی 2019ء کو صدارت کا حلف اٹھایا ۔
ان انتخابات میں چونکہ سرونٹ آف دی پیپل کے پاس زیادہ اکثریت نہیں تھی اس لیے وہ قانون سازی میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتے تھے اس لئے اچانک دوبارہ انتخابات کروائے گئے اور سرونٹ آف دی پیپل نے نے اس بار 450 میں سے 254 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت سے اپنی حکومت بنائی۔
اور قانون سازی کرنے پر بھی اپنا پورا کنٹرول حاصل کر لیا۔
موجود حالات میں صدر زیلنسکی ایک بہادر صدر کے طور پر اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی کان اور ان کی فیملی کو بھی شدید خطرہ ہے جس کا اظہار وہ کر چکے ہیں۔

No comments:

Post a Comment