Subscribe Us

Breaking

Friday, March 18, 2022

تحریکِ عدم اعتماد کی مکمل کہانی

تحریکِ عدم اعتماد کی مکمل کہانی

تحریک عدم اعتماد کیا ہے،تحریک عدم اعتماد،عمران خان، tehreek e adam aitmad,pti,imran khan,pmln,ppp,
tehreek-e-adam aitmad

پاکستانی سیاست میں میں آج کل جس چیز کا سب سے زیادہ چرچا ہو رہا ہے وہ تحریک عدم اعتماد ہے ۔

تحریک عدم اعتماد کیا ہے یہ کیسے پیش کی جاتی ہے اس کا مکمل پراسس کیا ہے؟ اور اور اس کی لیے کتنے ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے اور ماضی میں کن کن کے خلاف یہ تحریک پیش کی گئی اور کیا وہ تحریکیں کامیاب پوئیں یا نہیں یہ تمام معلومات اور اس سے جڑے ہوئے تمام حقائق کے بارےہم آپ کواس تحریر میں تفصیل سے بتائیں گے۔ کیونکہ پاکستانی سیاست کے اتار چڑھاؤ کو سمجھنے کے کئے یہ معلومات آپ کے پاس ہونا ضروری ہے۔

پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن ارکان نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے ان ارکان میں ایاز صادق، مریم اورنگزیب، شازیہ مری، سعد رفیق، رانا ثناءاللہ اور نوید قمر شامل تھے۔

تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت قومی اسمبلی میں جمع کروائی جاتی ہے۔ جس میں اپوزیشن قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کرواتی ہے۔ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا سپیکر اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ 14روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے ووٹنگ کروائے۔ ووٹنگ کے طریقے کار میں حکومتی اور اپوزیشن کے حمایتی ارکان اپنا اپنا ووٹ کاؤنٹ کرواتے ہیں۔ جس کے بعد سپیکر ارکان کی تعداد کی گنتی کر کے نتیجے کا اعلان کرتا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کروانے کے لئے اپوزیشن ارکان کو قومی اسمبلی کے 342 میں سے 172 ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے ۔اگر اپوزیشن 172 ارکان کی حمایت کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو عمران خان وزیراعظم کی کرسی کے اہل نہیں رہیں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو گا کہ کسی وزیراعظم کے خلاف پیش گئی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گی۔

لیکن اگر تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو اس سے پہلے دو وزیراء اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا چکی ہے جس میں سب سے پہلی1989 میں محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف پیش کی گئی تھی جس میں اپوزیشن کو 119 ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی لیکن اپوزیشن کو صرف 107ارکان کی حمایت ہی حاصل ہو سکی اور محترمہ بینظیر بھٹو نے 125ارکان کی حمایت کے ساتھ یہ تحریک ناکام بنائی۔دوسری عدم اعتماد کی تحریک سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف پیش 2006ء میں پیش کی گئی وہ تحریک بھی ناکام ہوئی۔اس تحریک میں اپوزیشن کو 342 میں سے 136 ارکان کا ووٹ ملا جبکہ وزیراعظم شوکت عزیز نے 206ووٹ حاصل کر کے اپنے خلاف پیش کی جانے والی تحریک ناکام بنائی۔

اب یہ کسی بھی وزیراعظم کے خلاف تیسری عدم اعتماد کی تحریک ہے جو فی الحال تو کامیاب ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی لیکن ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی کے کچھ ارکان اپوزیشں کو اپنی حمایت کا اشارہ دے رہے ہیں حکومت کے اتحادی بھی عمران خان سے نالاں نظر آتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو یقیناً یہ تحریک کامیاب ہو گی اگر اتحادی جماعتیں حکومت کے ساتھ رہتی ہیں اور اپنا ووٹ عمران خان کے حق میں دیتی ہیں تو تحریک ناکام ہو سکتی ہے۔

اس غدم اعتماد کی تحریک کے نتائج کیا ہوں گے اس کے لئے ہمیں 27مارچ تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ 

No comments:

Post a Comment