Subscribe Us

Breaking

Tuesday, March 8, 2022

عمران خان وزیر اعلیٰ پنجاب کی تبدیلی کے لئے رضا مند

usman buzdar changed,imran kham,usman buzdar,

پاکستانی سیاست میں سیاسی گہما گہمی اس وقت عروج پر نظر آرہی ہے عمران خان کو اپوزیشن کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے اپوزیشن بھرپور کوشش کر رہی ہے اور اس کے لیے اہم ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں ۔

دوسری طرف حکومتی ارکان بھی عمران خان سے نالاں نظر آتے ہیں علیم خان اور جہانگیر ترین کے درمیان بھی اس سلسلے میں ملاقات ہو چکی ہے اس ملاقات میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی ہے جس میں علیم خان جہانگیر ترین سے وزیر اعلیٰ بننے کے لئے حمایت بھی چاہتے ہیں۔

عمران خان جو کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کے بہت بڑے حامی تھے اور ان کی تبدیلی کے بارے میں کسی کی بھی بات کو خاطر میں نہ لاتے تھے لیکن اب حکومتی ارکان اور اپوزیشن کے دباؤ کی وجہ سے عمران خان وزیر اعلی پنجاب کی تبدیلی کے لیے رضامند ہو چکے ہیں اس سلسلے میں کچھ ناموں کی تجویز بھی دی گئی ہے جن میں علیم خان اور چودھری پرویز الہی سرفہرست ہیں

لیکن مسلم لیگ ق نے علیم خان کا نام مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ علیم خان سے بہتر ہے کہ عثمان بزدار ہی وزیر اعلیٰ رہیں۔

اس سلسلے میں چودھری برادران آج اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔

ترین گروپ کے 12 ارکان مسلم لیگ ق سے بھی رابطے میں ہیں جنہوں نے چوہدری برادران کو وزیر اعلی کے لئے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے ۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل اور فواد چوہدری نے علیم خان اور وزیراعظم کے درمیان دوریاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ علیم خان کی عمران خان سے بہت جلد ملاقات کروائیں گے۔اس سلسلے میں ان دونوں نے وزیراعظم سے ملاقات بھی کی جس میں علیم خان کے تحفظات دور کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ گورنر سندھ نے یہ بھی کہا ہے کہ دوریاں اتنی زیادہ نہیں ہیں کہ ختم نہ ہو سکیں۔

کون ہو گا پنجاب کا نیا وزیر اعلیٰ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

دوسری طرف اپوزیشن بھی عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لئے سر گرم ہے۔ جس کے لئے اہم ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور حکومت کے ارکان کو توڑنے جی سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں ن لیگ کا پارلیمانی اجلاس بھی ہو رہا ہے جس کی صدارت شہباز شریف کر رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے لئے نمبرز پورے ہیں۔ 

No comments:

Post a Comment